شائد یہ تحریر مجھے سال بھر پہلے ہی لکھ لینی چاہئے تھی، لیکن زخم ہرا تھا، یادیں گو ہر لمحہ کے ساتھ امڈ امڈ آتیں تھیں لیکن انہیں ترتیب میں لانے، الفاظ کی شکل دینے اور واقعات کو تسلسل میں لکھنے کا حوصلہ نہ تھا۔ کبھی کبھار خیال آتا کہ ابو سے متعلق مختلف باتیں جو بار بار یاد آتیں ہیں انہیں لکھ لینا چاہئے لیکن پھر یہ سوچ کر چھوڑ دیتا کہ میں نے کون سا یہ ذاتی یادداشتیں کسی کے ساتھ شئیر کرنی ہیں اور ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ میں ان میں سے کچھ بھی بھول جائوں، یہ تمام واقعات، ملاقاتیں، باتیں تو بالکل ایسے ہیں جیسے ابھی میرے سامنے پیش آ رہی ہیں لہذا باقاعدہ لکھنے کی کیا ضرورت، لیکن پھر اچانک چند ہفتے پہلے، ابو کے حوالے سے کسی نے ایک بات یاد کروائی تو باوجود کوشش کے اس کا موقع محل ذہن میں نہ آپایا، سو ضروری سمجھا کہ کچھ ضروری یادیں لکھ کر محفوظ کرلی جائیں۔

میں یہی سمجھتا ہوں کہ یہ تحریر اور ابو جانی کے بارے میں اس کے بعد آنے والی تحریریں میرے اپنے لئے ہیں، خود کو یہ احساس دلانے کیلئے کہ وہ ابھی بھی آس پاس ہیں، ہم پر نظر رکھے ہوئے اور اپنی دائمی مسکراہٹ کیساتھ رہنمائی کرتے ہوئے۔ ارادہ ہے کہ ابو سے متعلق آخری دنوں کی یادوں کے بعد ان کیساتھ گزرے لمحات کو تفصیل سے لکھوں، ان سے دوستی کیسے ہوئی، وہ ناراض کس بات پر ہوتے تھے، چھوٹی چھوٹی خوشیوں اور کامیابیوں کو سیلیبریٹ کیسے کرتے تھے، اپنی زندگی میں موجود ہر شخص کو کیوں اہمیت دیتے اور ہمیں بھی اس کی تلقین کرتے تھے، اور پھر بچپن کے وہ دن جب وہ دفتر سے گھر آنے والے ہوتے تو ہم بہن بھائی پردے کے پیچھے چھپ جاتے اور ان کے آتے ہی ہائو کرکے انہیں ڈرانے کی کوشش کرتے یا وہ ایام جب وہ گرمیوں کی دوپہر میں ہمیں چھت پر چڑھے کرکٹ کھیلتا یا پتنگ اڑاتا پاتے اور خود بھی آ کر ساتھ شریک ہوجاتے۔۔۔ نہ جانے آنے والے دنوں میں گزرتے وقت کی گرد یادوں کے اس اثاثے کو مزید دھندلا کردے۔۔ اس لئے بہتر یہی سمجھا کہ اپنے لئے ان قیمتی یادوں کو محفوظ کرلوں اور کبھی بہت دن بعد بھی، عمر کے کسی اور حصے میں، کسی حسین منظر کے کونے میں اکیلا بیٹھے بھی ابوجانی کی یاد آئے تو وہ میرے سامنے، میرے ساتھ موجود ہوں، ہمیشہ کی طرح۔۔۔

تین اپریل 2018 کو پاکستان سے واپسی اور ابو جانی سے گلے ملتے وقت قطعی یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ ہماری آخری جپھی ہے۔ طبعیت اس وقت بھی بہتر نہیں تھی، جگر ٹرانسپلانٹ کے کچھ عرصہ بعد ہی سے مسلسل کمر میں تکلیف اور جسم کمزور ہوتا جارہا تھا لیکن اس بات کا موہم سا بھی شائبہ نہیں تھا کہ یہ تمام عوامل یک دم سے زندگی کی اننگز کے اختتام تک لے جائیں گے۔ وہ خود بھی نہ صرف صحت مند ہونے کیلئے پرامید تھے بلکہ گپ شپ کے دوران مستقبل کی منصوبہ بندی بھی بھرپور انداز میں کررہے تھے۔ اپنے آپ کو بلکہ ملاقات کیلئے آنے والوں کو بھی یہ احساس دلاتے کہ بیماری عارضی ہے اور انشاءاللہ جلد ہی حالات نارمل ہوجائیں گے۔ میری موجودگی ہی میں ان کے دیرینہ دوست، مقدس صاحب آئے تو ان کے ساتھ ٹھیک ہونے کے بعد سیر کرنے کی پلاننگ کرنے لگے اور کہا “انشاءاللہ، اجے تے بہت کجھ مل کر کرنا اے”۔ شائد اس یقین اور امید کے پیچھے ان کی شخصیت کا ہمیشہ خوش گمان رہنے کا وہ پہلو تھا جو زندگی بھر انہیں متحرک رکھتا رہا اور جتنی زندگی جی، بھرپور انداز سے جی۔

اس وزٹ کے دوران، میں جتنے دن پاکستان رہا کم از کم میرے سامنے کبھی بھی انہوں نے کمزوری یا بے بسی کا شک تک نہیں ہونے دیا۔ ٹرانسپلانٹ کے بعد بھی جسم سے کینسر کی علامات مکمل ختم نہیں ہوپائی تھیں۔۔۔ ایک اور ٹیومر کے آثار ظاہر ہورہے تھے جس کی وجہ سے کمر درد ناقابل برداشت تھا، کمزوری اس کے علاوہ تھی، لیکن وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر کبھی گھر ہی میں چہل قدمی کرلیتے، تھوڑی دیر بستر سے اٹھ کر کرسی پر بھی بیٹھے رہتے، ملنے کیلئے آنے والوں کو اٹھ کر ملتے، نماز اگرچہ بیٹھ کر پڑھتے لیکن وقت پر پڑھتے، اور میری موجودگی میں جو آخری جمعہ انہوں نے پڑھا، اس سے واپسی پر مسجد سے گھر تک پیدل چل کر آئے۔ شائد اس وجہ سے میں طبعیت بگڑتی ہوئی محسوس ہونے کے باوجود جدائی کی توقع نہیں کررہا تھا۔ مجھے رخصت کرتے ہوئے بھی ،دوائیوں کے اثر، بخار اور نقاہت کے باوجود بستر سے اٹھے، ہمیشہ کی طرح زور سے ایک لمبی جپھی ڈالی اور “رب راکھا” کہ کر الوداع کہا۔

یہی رویہ ان کا ٹرانسپلانٹ سے قبل بھی تھا، اگرچہ ایک مشکل مرحلہ تھا، بار بار وسوسے اور اندیشے بھی گھیرتے تھے لیکن اللہ کی ذات کے بعد ابو جانی کے اطمینان اور سکینت کے باعث ہر بار تسلی ملتی تھی اور ٹرانسپلانٹ ہونے کے بعد یہ اطمینان مزید گہرا ہوگیا تھا کہ اب کوئی فکر کی بات نہیں۔۔۔ لیکن جو اللہ کو منظور ہو اسے کون بدل سکتا ہے۔
انہوں نے اپنی بیماری کے بارے میں اطلاع بھی اسی سکون اور اطمینان کیساتھ دی تھی۔ جنوری 2017 میں کزن کی شادی تھی، میں نے اور بلال نے فیصلہ کیا کہ شادی پر جانے کا کسی کو نہ بتائیں اور اچانک پہنچ کر سرپرائز دیں۔ ہم ایک صبح لاہور پہنچے اور سب حیران رہ گئے، ابو بھی سو کر اٹھے تھے اور یوں اچانک دونوں کو دیکھ کر حیران ہوئے اور پھر یوں آنے کی وجہ پوچھی، میں نے بتایا کہ عمیر کی شادی کے لئے آئے ہیں، تو مسکرانے لگے اور کہا “پکی بات ہے شادی کیلئے ہی آئے ہو؟”، مجھے یہ بات سن کر عجیب تو محسوس ہوا لیکن پھر بات آئی گئی ہوگئی۔ کچھ دن بعد شادی تھی سو اس کی تیاریوں میں مصروفیت رہی، مہندی کا فنکشن تھا، وہ کھانے کے فوری بعد ہی کہنے لگے کے مجھے گھر چھوڑ آئو، میں نے کہا کہ کچھ دیر بعد چلتا ہوں تو اصرار کرنے لگے اور کہا کہ تم بیشک واپس آجانا۔۔۔ خیر اس بار بھی مجھے حیرانی ہوئی اور موڈ آف ہوا کہ خود ڈرائیو کرکے کیوں نہیں چلے جاتے، لیکن کچھ کہا نہیں اور انہیں اور باقی لوگوں کو لے کر گھر آگیا۔ اس وقت تک انہوں نے اپنی بیماری کے متعلق نہیں بتایا تھا بس بخار، کمزوری اور طبعیت سست ہونے کا ہی کہتے تھے۔
شادی کے ہنگامے ختم ہوئے تو ایک دن اپنے کمرے میں بلایا، نہایت تحمل کیساتھ بات کی اور بتایا کہ ٹیسٹس میں کینسر کی علامات تشخیص ہوئی ہیں لیکن گھبرانے کی کوئی بات نہیں سب ٹھیک ہے۔ یوں اچانک کینسر کا لفظ سن کر لمحہ بھر کو تو پریشانی کی لہر اٹھی لیکن پھر ان کا اطمینان، تسلی دینے کا انداز اور مسکراہٹ دیکھ کر جان میں جان آئی اور اوسان بحال ہوئے۔ انہیں ہیپاٹائٹس تو تھا اور اس کیلئے باقاعدہ دوا بھی لیتے رہے تھے لیکن یہ کینسر کی صورت اختیار کرلے گا اس کا اندازہ نہیں تھا۔
اگرچہ علاج کیلئے مشورے انہوں نے ٹیسٹس کے بعد سے ہی شروع کررکھے تھے لیکن گھر میں اس بات کا ذکر فورا ہی نہیں کیا بلکہ مناسب وقت تک خود کو روکے رکھا اور یہی صبر وہ علاج کے ہر مرحلے پر بھی دکھاتے رہے۔

ڈاکٹرز نے کینسر کی تشخیص کے فوری بعد ہی لیور ٹرانسپلانٹ کا کہا لیکن وہ تذبذب میں رہے، حکمت اور ایلوپیتھی دونوں کو آزمایا لیکن کوئی خاص بات نہ بنی تو کہا کہ مجھے عمرہ کرنے دو پھر جو ہوگا کرلیں گے۔ اگرچہ جسم میں کمزوری کے آثار اب نمایاں ہورہے تھے، وزن بھی کافی کم ہوچکا تھا لیکن عمرہ کرنے گئے اور خود کو یکسو کرکے واپس لوٹے۔ ٹرانسپلانٹ چونکہ اسلام آباد میں ہونا تھا اس لئے ابتدائی دنوں میں مختلف ٹیسٹس اور آپریشن کی تیاری کے حوالے سے لاہور سے اسلام آباد کے کئی چکر لگے۔ ان میں سے ایک بار لاہور واپسی کے وقت گاڑی میں صرف میں اور وہ تھے، یہ وقت شائد بقیہ زندگی کا بہترین اثاثہ ہے۔۔۔ انہوں نے کئی حوالوں سے تفصیل سے بات چیت کی۔ اپنے بارے میں، خاندان کے بارے میں، اپنے دوستوں اور محسنوں کے حوالے سے۔ اس دن شائد پہلی بار انہوں نے کھل کر یہ کہا کہ دنیا میں جو بھی آیا ہے اس نے واپس تو جانا ہی ہے اس لئے خود کو ہر طرح کے حالات کیلئے تیار رکھنا چاہئے، پھر دادا کے انتقال کے وقت اور اس کے بعد کی صورتحال کا ذکر کیا، شائد وہ مجھے ذہنی طور پر مضبوط بنانا چاہ رہے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں ان کا سکون دیکھ کر وہسے ہی بالکل مطمئن تھا اور کسی دوسری سوچ کو کو ذہن میں نہیں لانا چاہتا تھا۔ یہ حیرت انگیز بات تھی کہ ابو نے یوں وضاحت کے ساتھ اپنے بعد کے حالات کے حوالے سے بات کی مگر شائد اس وقت ضروری بھی یہی تھا، ورنہ ہم دونوں میں ایک مشترک بات یہ ہے کہ دونوں “جو ہوگا دیکھا جائے گا” کے اصول پر سختی سے کاربند رہے۔

اسی طرح ٹرانسپلانٹ کے بعد بھی ایک دن خلاف معمول دوپہر کے وقت خود سے اپنی زندگی کے بارے میں بات چھیڑ دی۔ اپنے بچپن کے بارے میں بتانے لگے، سعودی عرب میں گزرے ایام، پھر پاکستان آنا، یہاں پر کالج اور یونیورسٹی کے دن۔ باتوں باتوں میں کہنے لگے، “میں فلم دیکھنے کا بہت شوقین تھا، اکیلے اور اپنے کزن اصغر کیساتھ لاہور اور قرب و جوار کا کوئی ایسا سینما نہیں تھا جہاں جا کر فلم نہ دیکھی ہو، لیکن پھر یونیورسٹی میں جمعیت سے تعارف ہونے کے بعد شوق تبدیل ہوگیا۔ میں نے سائیکل، موٹر سائیکل اور بس پر پورے شہر کے بار بار کئی چکر لگائے اور اس وقت کی کوئی ایسی معروف مسجد نہیں تھی جہاں نماز نہ پڑھی ہو۔۔۔” وہ وقت یاد کرتے ہوئے ان کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ میں نے جمعیت میں آنے کا پوچھا تو بولے، “ان دنوں بھٹو کا فیشن تھا، تعلیمی اداروں اور نوجوانوں میں بھٹو ایک نظریہ کی حیثیت رکھتا تھا، ہم لوگ بھی اس سے متاثر تھے اور اس کی مخالفت کرنے کی وجہ سے مولانا مودودی کو برا سمجھتے تھے، ایک دن باتوں باتوں میں یونیورسٹی میں سینئر نے تفہیم القران کی ایک جلد دی لیکن میں نے لینے سے انکار کردیا کہ یہ مودودی کی ہے تو انہوں نے کہا قرآن تو اللہ کا ہے، تم پڑھ کر تو دیکھو۔۔۔ میں نے واپس آ کر تفہیم کھولی، اس کے آغاز میں موجود مقدمہ پڑھا اور مجھے یوں لگا کہ یہ مولانا نے میرے لئے ہی لکھا ہے، میں نے اسے بار بار پڑھا۔۔اور پھر واپس پلٹ کر پیپلز پارٹی یا بھٹو کا نام نہیں لیا”۔

یوں وفات سے قبل کی ان نشستوں میں انہوں نے ہم سب کیلئے کئی پہلوئوں سے رہنمائی کا فریضہ پوری طرح ادا کردیا۔ ابو کی ایک بہت اچھی عادت یہ تھی کہ جس وقت طبعیت بحال تھی وہ کوئی بھی ضروری بات کرتے، اسے میسج یا ای میل کے ذریعے بھی ضرور سینڈ کردیتے۔ اس طرح ان کی ہدایات اور مختلف معاملات میں ان کی رائے آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں اور ان کے رخصت ہونے کے بعد بھی ایسے ہی رہنمائی کررہی ہیں جیسے وہ خود اپنی زندگی میں کیا کرتے تھے۔
اسی حوالے سے ایک اہم بات یہ بھی کہ وفات کے کچھ عرصہ بعد امی کے خواب میں آئے اور اپنے بازو دکھاتے ہوئے کہنے لگے کہ اب میں بالکل ٹھیک ہوں فکر مت کرو، اس بات سے ہم سب کو حقیقتا بہت اطمینان ہوا۔ ابھی چند ماہ قبل ہی مقدس صاحب نے بھی بتایا کہ ان کے خواب میں نظر آئے، انہوں نے پوچھا کہ “شاہین صاحب تسی کتھے چلے گئے ہو؟” تو جواب دیا کہ “کتھے نہیں، میں ایتھے ہی ہاں”، وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ان کی فیکٹری کی ایک دیوار کی جانب اشارہ کرکے کہنے لگے کہ یہاں لکھوائو کہ دنیا میں ایک مسافر کی طرح رہو۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہی بات ان کے ایک اور دوست محسن صاحب کے خواب میں بھی کہی۔ یقینا ایسی باتوں سے نہ صرف دل اطمینان سے بھر جاتا ہے بلکہ اللہ کی جانب سے لکھے پر ایمان مزید پختہ بھی ہوجاتا ہے۔

وہ زندگی بھر اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے بھرپور تعلقات نبھاتے رہے، یہ بات ان میں دادا سے آئی تھی اور ان کی خواہش تھی کہ یہ عادت مجھ میں بھی منتقل ہو۔ ابو کے ہوتے ہوئے اور ان کے بعد بھی جن رشتہ داروں اور ان کے دوست احباب نے مسلسل رابطہ رکھا، ہمت اور حوصلہ بڑھاتے رہے یقینا ان کا احسان سوائے دعائوں کے کسی صورت نہیں اتارا جاسکتا۔ تمام افراد کے نام لکھنا ممکن نہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ ان سب کو احساس ہے کہ وہ سب ہمیشہ دعائوں میں موجود ہیں۔

بیماری کی تشخیص سے لے کر ٹرانسپلانٹ اور پھر اس کے بعد دوبارہ طبعیت بگڑنے سے لے کر وفات تک جو عمل دائمی طور پر ان کیساتھ رہا وہ ان کا ہر حال میں شکر ادا کرنا اور ہر مرحلہ پر مسکرانا تھا۔ آج بھی ہم سب کو حوصلہ دینے میں اللہ کی ذات کے بعد ابو کی تصاویر ہی ہیں جو ہر وقت ویسے ہی مسکراتی ہوئی ملتی ہیں جیسے ابو جانی اپنی زندگی میں ہنستی آنکھوں کیساتھ ملتے تھے۔ اور یہ تو میں نے خود مشاہدہ کیا کہ آپریشن کیلئے جاتے ہوئے ہی نہیں بلکہ ہوش میں آنے کے بعد بھی ان کی آنکھیں پہلے ہی کی طرح مسکرا رہی تھیں۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ہم سب کو اپنی رحمت سے جنت میں دوبارہ ملا دے، آمین، تب تک “رب راکھا”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *